سِر، مجھے چھوڑ دیں
### کہانی: "سِر، مجھے چھوڑ دیں"
#### پہلا باب: صبح کی روشنی
صبح کا وقت تھا، سورج کی کرنیں سعد کے کمرے کی کھڑکی سے اندر آ رہی تھیں۔ سعد، جو کہ ایک مشہور 'رات کا الّو' تھا، مشکل سے بستر سے اٹھا۔ اس کی ماں نے ناشتہ تیار کر رکھا تھا۔
"سعد، بیٹا، ناشتہ کر لو،" اس کی ماں نے محبت سے کہا۔
"جی امی، بس آ رہا ہوں،" سعد نے نیند میں ڈوبے ہوئے لہجے میں کہا۔ اس کی آنکھیں اب بھی بند تھیں اور وہ دیوار سے ٹکرا گیا۔ یہ روزانہ کا معمول بن چکا تھا کہ سعد نیند میں ٹکراتا اور اس کی ماں ہنستی۔
سعد نے جلدی جلدی تیار ہو کر اسکول کا رخ کیا۔ راستے میں وہ اپنے دوستوں سے ملتا اور ہنستا مسکراتا جاتا۔ لیکن آج کچھ مختلف تھا۔ آج اس کے دل میں ایک عجیب سا خوف تھا، جیسے کچھ غلط ہونے والا ہو۔
#### دوسرا باب: پہلی ملاقات
سعد اسکول جانے کے لیے اپنے دوستوں کے ساتھ نکلا۔ راستے میں چلتے ہوئے، اچانک اس کے قدم رک گئے۔ ایک آدمی، جو صرف اسے ہی دکھائی دے رہا تھا، اس کے سامنے کھڑا تھا۔ وہ آدمی ایک لمبی داڑھی اور عجیب لباس پہنے ہوئے تھا۔
"سعد، تمہیں یہاں رکنا ہوگا،" اس آدمی نے کہا۔
سعد نے حیرت سے دیکھا اور بولا، "ارے بھائی، آپ کون ہیں؟ اور کیوں مجھے روز پکڑتے ہیں؟ میں کوئی سیل فون نہیں ہوں!"
آدمی نے مسکراتے ہوئے کہا، "نہیں بھئی، تم سیل فون نہیں ہو، لیکن میں تمہارے پیچھے روز ہوں۔"
سعد نے جھٹ سے کہا، "ماں، میں کہاں جاؤں؟"
یہ سن کر آدمی نے ایک عجیب سی ہنسی ہنسی اور غائب ہو گیا۔ سعد نے اپنے دوستوں کو یہ بات بتائی لیکن کسی نے اس کی بات کا یقین نہیں کیا۔
#### تیسرا باب: اسکول میں
اسکول پہنچ کر بھی سعد کی حالت بگڑی ہوئی تھی۔ کلاس میں دوستوں کے درمیان بیٹھا ہوا، لیکن اس کے چہرے پر خوف اور ہنسی کے آثار تھے۔
"سعد، کیا ہوا؟ تم اتنے پریشان کیوں لگ رہے ہو؟" اس کے دوست نے پوچھا۔
سعد نے سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا، "یار، ایک آدمی ہے، روز مجھے پکڑ لیتا ہے۔"
دوست نے ہنستے ہوئے کہا، "ارے، وہ تو تمہارے نوٹس مانگ رہا ہوگا۔"
سعد نے طنزیہ لہجے میں کہا، "ہاں، نوٹس ہی ہوں گے، مگر وہ مجھے کلاس کے باہر کیوں پکڑتا ہے؟"
سعد کی بات سن کر سب ہنسنے لگے۔ لیکن سعد کو پتا تھا کہ وہ آدمی سچ میں تھا اور اسے ہر دن دو بار ملتا تھا۔
#### چوتھا باب: دوسری ملاقات
شام کا وقت تھا، سعد اسکول سے واپس آ رہا تھا۔ اچانک وہی آدمی پھر سے اس کے سامنے آگیا۔
"سعد، تم پھر یہاں آ گئے؟" آدمی نے طنزیہ انداز میں کہا۔
سعد نے مسکراتے ہوئے کہا، "ہاں بھائی، آپ کو کوئی اور نہیں ملا پکڑنے کے لیے؟"
آدمی نے ہنستے ہوئے کہا، "نہیں، تم ہی کافی ہو میرے لیے۔"
سعد نے کہا، "ماں، میں کہاں جاؤں؟"
آدمی نے پھر سے غائب ہو کر سعد کو حیران کر دیا۔ سعد نے اس بار اس واقعے کو اپنی ڈائری میں لکھنے کا فیصلہ کیا۔
#### پانچواں باب: عروج
رات کا وقت تھا، سعد اپنے کمرے میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے اپنی ڈائری نکالی اور اپنے خیالات لکھنے لگا۔
"آج مجھے سمجھ آیا کہ یہ آدمی دراصل میرا خوف ہے۔ مگر مجھے ہنسی آتی ہے کہ یہ خوف بھی کتنا عجیب ہے۔"
سعد نے خود سے کہا، "مجھ سے تو یہ خوف بھی ہنسنے لگا ہے!"
اس نے اپنے خوف کو اپنے الفاظ میں بیان کیا اور اسے احساس ہوا کہ یہ صرف اس کے دماغ کا کھیل ہے۔
#### چھٹا باب: اختتام
اگلے دن صبح، سعد نے اپنی ماں سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔
"امی، مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے،" سعد نے سنجیدگی سے کہا۔
"کیا بات ہے بیٹا؟" اس کی ماں نے پوچھا۔
"مجھے دن میں دو بار ایک آدمی نظر آتا ہے، جو مجھے روک لیتا ہے۔ شاید مجھے کسی ماہر نفسیات سے ملنا چاہیے۔"
سعد کی ماں نے ہنستے ہوئے کہا، "شاید وہ آدمی تمہیں یاد دلا رہا ہے کہ ٹائم پر سونا بھی ضروری ہے!"
سعد بھی ہنستے ہوئے بولا، "شاید آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں، امی۔"
اس طرح سعد نے اپنے خوف کو مزاح میں تبدیل کر دیا اور اسے یہ سمجھ آیا کہ کبھی کبھار خوف کو ہنسی میں بدلنے سے وہ کم ہو جاتا ہے۔ سعد نے اپنے خوف پر قابو پایا اور اپنی زندگی میں ہنسی اور خوشی کو جگہ دی۔
### ختم
یہ کہانی آپ کے لیے کیسی رہی؟ کیا آپ کو اور کچھ شامل کرنا ہے؟
شركة نقل عفش بالرياض
ReplyDeleteشركة شراء اثاث مستعمل بالرياض
(شركة تنظيف بالرياض)
(شركة رش مبيدات بالرياض)
(شركة تنظيف خزانات بالرياض )
شركة شراء معدات مطاعم مستعملة بالرياض
(شركة كشف تسربات بالرياض )
شركة عزل اسطح بالرياض
شركة عزل فوم بالرياض